Add To collaction

15-Mar-2022 ہیر رانجھا

ہیر رانجھا کی داستان

ہیر رانجھا کی داستان یوں تو کئی طریقوں سے بیان کی جاتی ہے لیکن کہانی کا نفس مضمون میاں رانجھا اور عزت بی بی عرف مائی ہیر سیال کی لازوال محبت کے گرد ہی گھومتا ہے۔ متفق علیہ بیانیہ ہے کہ میاں رانجھا چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ چھوٹا ہونے کے ناطے والد کا چہیتا ہے۔ بڑے بھائی کھیتی باڑی کرتے ہیں، جو شادی شدہ ہیں جبکہ میاں رانجھا فکرِ معاش سے بیگانہ سیر و سیاحت کا عادی اور بانسری بجانے کا شوقین ہے۔

میاں رانجھا بچپن سے ناز و نعم میں پلا ہے جس نے دُکھ نہیں دیکھے۔ والد کی وفات کے بعد میاں رانجھا کی مشکلات کا دور تب شروع ہوتا ہے جب بھائی والد کے ترکہ میں سے زمین کا حصہ دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ نوبت کھانا پانی بند ہونے تک پہنچ جاتی ہے تو میاں رانجھا اپنی کُل کائنات تن کے جوڑے اور بانسری کے ساتھ گاؤں چھوڑتے ہیں اور پھرتے پھراتے ہیر سیال کے گاؤں جاپہنچتے ہیں۔
عزت بی بی عرف مائی ہیر ایک خوبصورت نوجوان لڑکی ہے جس کے حُسن کے چرچے زبان زدِ عام ہیں۔ میاں رانجھا پانی گھاٹ پر پانی بھرنے آئی ہیر کو دیکھتے ہی سو دل و جان سے فریفتہ ہوجاتا ہے اور بے خود ہوکر بانسری بجانے لگتا ہے۔ ہیر اِس نو وارد اجنبی میاں رانجھے کی سن گن لیتی ہے، اپنے والد کو قائل کرتی ہے اور میاں رانجھے کو مال مویشی چرانے کا کام سونپ دیتی ہے۔

اب میاں رانجھا مویشی چراتے اور بانسری بجاتے پھرتے ہیں۔ بانسری سے نکلنے والی مدھر سُروں نے بالآخر ہیر کا دل موہ لیا اور وہ میاں رانجھا کے عشق میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اپنے دل میں پیار کا جذبہ محسوس کرتے ہیں اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ بعد از اظہار ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بالآخر ایک دن ہیر کا چچا کیدو ہیر رانجھا کو عند الملاقات دیکھ لیتا ہے۔ کیدو ایک حاسد اور منہ پھٹ انسان ہے جو اِن دونوں کی خفیہ محبت کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔

ہیر رانجھا کی محبت کا چرچا عام ہونے کے بعد مزید بدنامی سے بچنے کے لیے ہیر کے والدین نے زبردستی ہیر کی شادی کردی۔ میاں رانجھا اپنی ہیر کے بیاہے جانے پر سخت دل برداشتہ ہوا، اِسی صدمے میں گرفتار بغل میں بانسری دابی اور پھر جنگل بیاباں میں سرگرداں پھرنے لگا۔ اِسی دوران میاں رانجھا کی ملاقات بابا گورکھ ناتھ سے ہوئی جو جوگیوں کے ایک فرقے ’کن پھٹا‘ کا بانی تھا۔ گورکھ ناتھ کی تبلیغ سے میاں رانجھا نے گیروا لباس زیب تن کیا، ہاتھ میں کاسہ لیا اور جوگی بن گیا۔ اُس نے اپنے کان چھدوائے، دنیا کو خیرباد کہا اور سادھو و سنت کا بھیس اوڑھ لیا۔ پھر گاؤں گاؤں، نگر نگر پھرتا پھراتا آخرکار اُسی دیہات پہنچ گیا جہاں ہیر بیاہی گئی تھی۔

رانجھا وہاں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہیر نے بھی اپنے رانجھا کو پہچان لیا۔ رانجھا چوری چھپے ہیر کا دیدار کیا کرتا۔ ہیر اپنی سہیلی اور نند سہتی کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بناتی ہیں، جس کے تحت ہیر کو زہریلا سانپ ڈس لیتا ہے جس پر سہتی کہتی ہے کہ اِس سانپ کا زہر نکالنے کے لیے سادھو کو بلوانا ہوگا، سادھو اور کوئی نہیں رانجھا ہوتا ہے، ہیر اور سادھو کو ایک کمرے میں بند کردیا جاتا ہے اور یوں رانجھا اور ہیر موقع ملتے ہی گاؤں سے بھاگ آتے ہیں۔

مگر دونوں نے خود سے شادی کرنے کے بجائے واپس ہیر کے گاؤں آنے کا فیصلہ کیا تاکہ گھر والوں کو منایا جاسکے۔ ابتدائی طور پر تو ہیر کے والدین کے دل میں بیٹی کی محبت اور ضد غالب آئی، مگر کچھ تکرار کے بعد وہ اپنی بیٹ کی شادی میاں رانجھا سے کرنے پر راضامند ہوگئے۔ مگر حاسد کیدو نے عین شادی کے دن زہریلے لڈو کھلا کر ہیر کا کام تمام کردیا۔ رانجھے تک یہ خبر پہنچی تو وہ روتا پیٹتا اپنی محبوبہ کی طرف بھاگا۔ ہیر کو مردہ دیکھا، اور دل برداشتہ ہوکر خود بھی زہریلا لڈو کھا کر خودکشی کرلی اور یوں اِس رومانوی داستان کے دو لازوال کردار ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

طالب دعا ء
ڈاکٹر عبد العلیم خان
adulnoorkhan@gmail.com

   9
2 Comments

Simran Bhagat

15-Mar-2022 07:56 PM

👍🏻👍🏻

Reply